Monday, November 7, 2016

MOHAMMED  SAMIULLAH  ALVI
A legendary teacher of Birote
تحریر: محمد عبیداللہ علوی

***************
آہ ۔۔۔۔۔۔۔ محمد سمیع اللہ علوی 
 اکتیس اکتوبر سے اس دنیا میں نہیں رہا ۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔ اس کے شاگرد اب اس کا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔ ان شااللہ
******************
ہر بہار گل کو ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دور خزاں آنے کا غم
غنچہ کو گل بننے کا ۔۔۔ اور گل کو مرجھانے کا غم
پائے عمر نوح انساں ۔۔۔ یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہو مرگ نوجواں
اس جہاں فانی میں ہے ہر انساں کو مرجانے کا غم

********************

وہ مجھ سے پانچ سال چھوٹا تھا اور بچپن سے ہی پر اسرار، ماورائی اور مابعدالطبیعاتی شخصیت کا مالک تھا، یہ پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ اس کے بعد اس کا اگلا اقدام کیا ہو گا ۔۔۔۔؟ بات جائز ہوتی یا ناجائز ۔۔۔۔ اگر اس پر ڈٹ جاتا تو ۔۔۔۔ دنیا کی کوئی طاقت اسے ایک سنٹی میٹر بھی آگے پیچھے نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔۔ اس وجہ سے جہاں اس نے اپنے شاگردوں کی تعداد میں ستاروں جیسا اضافہ کیا وہاں اس نے فیس بک فرینڈز کی طرح انہے وا دوست نہیں بڑھائے بلکہ اس نے خواہ پیشہ ورانہ طور پر یا کسی اور وجہ سے جو بھی دوست بنائے وہ واقعی اس کے دوست اور مدح خواں تھے ۔۔۔۔ اور اس کی جبلت اور نفسیات کو بھی جانتے تھے ۔۔۔۔ ان میں سے ایک سینٹر انچارج ساجد عباسی ہیں ۔۔۔۔ وہ بتاتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔ وہ ان پر بے حد اعتماد اور اعتبار کیا کرتا تھا اور اس کی نوعیت ایسی تھی کہ ۔۔۔۔ وہ جب اخروٹ اتارتا تو ان کو تحفہ کے طور پر بھی پیش کرتا، یہ دو حصے ہوتے، ایک ہماری اکلوتی ہمشیرہ اور ایک ساجد عباسی کیلئے ۔۔۔۔
****************
محمد سمیع اللہ علوی کی وفات پر کتنے لوگ میرے پاس تعزیت کیلئے آئے، انہوں نے فون پر میرے دکھ درد کو شیئر کیا، مجھے کچھ پتہ نہیں، اس لئے کہ اس محبت کو اعداد و شمار پر تولا نہیں کرتے، ڈیڈ باڈی جب بیروٹ پہنچی تو قبر تقریباً تیارتھی، میرے پڑوسیوں شفقت عباسی، ان کی اہلیہ اور بیٹے صداقت عباسی، زرین عباسی ان کی اہلیہ اور بیٹے عظیم عباسی، حوالدار ذولفقار عباسی، میرے بھتیجے طیب علوی اور میرے کزن منیر علوی اور ان کے اہلخانہ نے تمام انتظامات کر دئے تھے، میں سمیع اللہ علوی کے چاہنے والوں، اس کے شاگردوں، اپنے تمام پڑوسیوں اور عزیزوں سے سپاس تعزیت کرتا ہوں کہ دکھ کی اس گھڑی میں ہمارے ساتھ تمام ترتجہیز و تکفین اور قل تک کے معاملات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔۔۔۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر دے۔۔۔ آمین
سمیع اللہ کا بڑا بیٹا محمد ذکریا علوی
وہ پیشے کے اعتبار سے ایک ٹیچر تھا اور گزشتہ اٹھائیس برس سے علاقے کے نونہالوں میں علم تقسیم کر رہا تھا، اس کے ساتھی ٹیچر بتاتے ہیں کہ ۔۔۔۔ پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران اپنے افسروں کو بھی خاطر میں نہیں لاتا تھا، بعد میں وہ ان سے ملاقات اور تبادلہ خیال کرتا ۔۔۔۔۔ لوگ تو درخواستیں دے کر دیہاڑی لگانے والے ٹیچرز کے تبادلہ کا مطالبہ کرتے ہیں مگر جب وہ ترمٹھیاں اور بانڈی، لوئر بیروٹ سے ٹرانسفر ہوا تو ۔۔۔۔۔۔ اس کی ٹرانسفر رکوانے کیلئے وفود ایبٹ آباد گئے تھے ۔۔۔۔۔ آج کل اس کے امیڈی ایٹ باس لورہ سے تعلق رکھنے والے ۔۔۔۔ جناب منیب صاحب ۔۔۔۔ تھے، اتنے کڑوے مزاج کے باوجود وہ اس کیلئے نہایت نرم گوشہ رکھتے تھے بلکہ اس کے اخلاص کو بھی سراہتے تھے، وہ شروع میں مانیٹرنگ والوں کو بھی نہیں مانتا تھا نہ ہی اس کے خیال میں پرائمری مدرس گریڈ بارہ سے آگے جا سکتا تھا، اس کے کولیگ نے اسے سمجھایا تب اس کے کاغذات بنے اور وہ اگلے گریڈ میں پروموٹ ہوا، عید کے فوراً بعد اس کی معصومہ ٹینٹ سکول دومیل باسیاں میں کام کے دوران دونوں آنکھیں اندھیر ہو گئیں، گھر پہنچا تو ۔۔۔۔۔
منچلا بیٹا مقتصد علوی
 گردوں نے بھی جواب دیدیا، میرا بھانجھا اسامہ بن نصیر اسے بھارہ کہو لایا، ٹیسٹوں میں ڈائیلائیسس تجویز ہوا چنانچہ یہ سلسلہ بھی چل پڑا اور ہفتے میں دو ڈائیلائیسس ہوتے رہے، عمران خان کے دھرنے نے جمعہ کا ڈائیلائیسس نہ ہونے دیا اور پیر کو وہ اپنے خالق حقیقی کے پاس پہنچ گیا، جس روز اس کی روح نے پرواز کی اسی رات بارہ بجے اس کا قومی شناختی کارڈ بھی ایکسپائر ہو گیا، میرے مرحوم بھائی پر ایک روپے کا قرض بھی نہیں تھا ۔۔۔۔ وفات سے پہلے اور بعد ۔۔۔۔ اس کے تمام معاملات اپنے وقت پر خود بخود سرانجام پائے ۔۔۔۔ وہ بھی اس دنیا میں ان فٹ تھا اور بیماری کے دوران شدت درد سے اپنے رب کو اس طرح پکارتا ۔۔۔۔ نہ تو جین دینا ایں نا تو مرے ہوغا چھوڑیا اے ۔۔۔۔ وہ یہ بھی کہا کرتا ۔۔۔۔۔ گھر کے پاس دوسرا گھر ایک سو میل کے فاصلہ پر ہونا چائیے ۔۔۔۔ اس کی پہت اچھی صحت تھی مگر وہ نمک کی طرح گل گیا ۔۔۔۔ وہ سات سال بعد ہماری والدہ مرحومہ کی دائیں جانب ان کے پہلو میں جا کر سو گیا ہے، آخر میں میں اپنے دکھی دل کے ساتھ یہی کہہ سکتا ہوں کہ ۔۔۔۔۔ کلُّ مَنْ عَلیها فَان وَ یبقَی وَجْهُ رَبَّک ذوالجلالِ والاکرامِ
سب سے چھوٹا بیٹا ابطخی علوی

بہنیں اور بیٹیاں انعام خداوندی ہوتی ہیں، اس کی بیماری کے دوران میری اکلوتی بہن اور میرے بھانجھے اسامہ بن نصیر نے میرے بھائی کی جتنی خدمت کی، گاڑی پر اسے ڈائیلائس کے لئے لے جاتا رہا ۔۔۔۔ یقین جانئیے اتنی خدمت لوگ والدین کی بھی نہیں کرتے ۔۔۔۔ بکوٹ کےقاضی خاندان کی بیٹی اور اس کی اہلیہ کے علاوہ اس کے نو عمر بیٹے ذکریا علوی نے جس طرح اپنے معذور اور ضدی شوہر اور والد کی خدمت کی وہ بھی انہی کا حصہ تھی ۔۔۔۔ اللہ تبارک و تعالیٰ دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔۔ اور اس کا صلہ وہ انہیں ضرور دیگا ۔۔۔۔ رب کائنات ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔۔۔۔۔ آمین یا رب العالمین

No comments:

Post a Comment